Responsive Ad Slot

test banner
Showing posts with label history. Show all posts
Showing posts with label history. Show all posts

سنہرا اسلامی دور: خلیفہ ہارون الرشید کی زندگی کی کہانی، کتنی حقیقت، کتنا افسانہ

No comments



ہارون الرشید وہ خلیفہ ہیں جن کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ مشہور داستان ’الف لیلی‘ کے خلیفہ۔ مصنف ٹینیسن کے نیک دل ہارون الرشید۔۔۔ لیکن ہم اُن کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ ہمارے خیال میں ہم جانتے ہیں کہ ان کا دور خلافت کا ’سنہرا دور‘ تھا۔

ہارون الرشید کی تخت نشینی ہر اُن کی سلطنت وسطیٰ ایشیا سے لیبیا تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس دور کے بارے میں ٹینیسن نے لکھا ’ایک اچھا وقت، ایک اچھی جگہ کیونکہ یہ نیک ہارون الرشید کے عروج کا زمانہ تھا۔‘

لیکن وہ دور کتنا اچھا تھا؟ اس دور کے ’سنہرے‘ ہونے کا تصور بہت بعد میں پیدا ہوا اور یہ شاید خلافت کی انتہائی الجھی ہوئی 600 سالہ تاریخ کو ایک نقطے پر مرکوز کرنے کا طریقہ ہے۔ ان 600 سو برسوں میں سنہ 786 سے سنہ 809 تک ہارون الرشید کا دورِ خلافت 20 برسوں سے کچھ زیادہ ہے۔

مجھ سمیت بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ فنون لطیفہ، سائنس اور ادب میں بہت سا بہترین کام ہارون الرشید کے بعد ابھی آنا تھا۔

ہمارے نزدیک ہارون الرشید اور بغداد کا نام ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان کا بغداد ہہت زبردست جگہ رہی ہو گی، بالکل اس طرح جیسے ’الف لیلی‘ میں پیش کی جاتی ہے۔ لیکن وہ حقیقت میں کیسا تھا؟ اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ہارون الرشید کے بغداد کا اب کچھ بھی نہیں بچا۔

لیکن ہم جانتے ہیں کہ خلافت کے دور کے آخری دس برسوں میں ان کا پسندیدہ شہر شام کا علاقہ رقعہ تھا جو بغداد سے شمال میں خلافت کی بازنطینی سلطنت کے ساتھ ملنے والی شمال مغربی سرحد کے قریب واقع تھا۔

ماہرین آثار قدیمہ نے اب رقعہ میں صرف محلات ہی نہیں بلکہ فیکٹریاں بھی دریافت کی ہیں۔ آٹھویں صدی میں فیکٹریوں کا تصور یقیناً پُرجوش کر دینے والا ہے۔ لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں کہ وہاں صنعت کو فروغ دینے میں ہارون الرشید کا خود کتنا ہاتھ تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہارون الرشید کے بارے میں ہم کہانیوں سے جو جانتے ہیں وہ اس سے مختلف ہے جو قرونِ وسطیٰ کی تاریخ کی کتابوں سے ہمیں پتا چلتا ہے اور شاید جدید دور آثار قدیمہ کی دریافتیں ہمیں کچھ مزید نیا بتائیں۔



قرون وسطیٰ کی دستاویز پڑھیں تو ہارون الرشید اپنی زیادہ تر بالغ زندگی میں ایک کمزور انسان نظر آتے ہیں جن کے ہاتھوں سے خلافت جاتے جاتے بچی تھی، جو اپنی والدہ اور اہلیہ زبیدہ کے زیرِ اثر تھے اور جن کی حکومت کا زیادہ تر انتظام بیوروکریسی چلا رہی تھی جو بارمکید خاندان کے زیرِ اثر تھی۔

اپنے دور حکومت کے آخری حصے میں انھوں نے معاملات اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی اور بارمکید خاندان (برمکیان) کو جیل میں پھینک دیا اور اپنے پسندیدہ جعفر کو قتل کر دیا۔ لیکن وہ مستقبل کی اچھی منصوبہ بندی نہیں کر سکے۔

وراثت کے باقاعدہ نظام کی عدم موجودگی میں انھوں نے خلافت کا عہدہ اپنے اور زبیدہ کے بیٹے امین کو اور آدھی سلطنت امین کے سوتیلے بھائی مامون کو دینے کا وعدہ کیا جو ایک لونڈی کے بیٹے تھے۔

اُن کی موت کے بعد دونوں بھائیوں میں جنگ چھڑ گئی اور بغداد کھنڈر کا نقشہ پیش کرنے لگا۔

مامون نے امین کو مروا کر تخت پر قبضہ کر لیا اور آئندہ کے لیے ایک مثال قائم کر دی۔ ان واقعات کی روشنی میں تاریخ کے کردار ہارون الرشید کی سیاسی میراث کو شاندار نہیں کہا جا سکتا اور اگر ان کا سنہرا دور تھا، تو وہ بہت مختصر تھا۔ اُن کا اپنی عمر کی 40 کی دہائی میں انتقال ہو گیا تھا۔

لیکن داستان ’الف لیلی‘ کا ابدی کردار ہارون الرشید ایسے معلوم ہوتا ہے کہ ہارون الرشید کی موت کے کچھ عرصے کے بعد منظر پر آیا تھا۔ یہ یہی وہ ہارون ہے جو ہماری یادوں میں زندہ ہے۔

وہ ان اچھے دنوں کی یادیں ہیں جو کبھی تھے ہی نہیں، لیکن شاید ہو بھی سکتے تھے۔ ماضی کئی بار آگے چل کر بُرے وقتوں میں امید کی کرن بن کر بھی سامنے آتا ہے۔ وہ نہ صرف ایک نیک دل حکمران ہیں بلکہ وہ سب کچھ کرتے ہیں جو ایک حکمران مہذب معاشرے کے قیام کے لیے کرتا ہے۔

وہ دانشوروں اور شعرا کے سرپرست ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ ایک رومانوی ہیرو ہیں، ایک نرم دل اور خوبصورتی کے دلدادہ انسان، خاص طور پر ایسی خوبصورت لونڈیوں کے جو ہوشیار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں اور جنھیں موسیقی اور شاعری پر دسترس حاصل تھی۔



ہارون الرشید اور ان کی اہلیہ کی خواب گاہ کا ایک منظر جب دورانِ نیند ہارون کی اہلیہ نے ڈرا دینے والا ایک خواب دیکھا

وہ ہیار کرنے والے شوہر ہیں، ان کی بیوی بھی ان سے پیار کرتی ہے۔ زبیدہ نے، جو ذہین، سخی اور نیک عورت ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ میں صاحبِ حیثیت تھیں، ہر اچھے بُرے وقت میں اُن کا ساتھ دیا۔

انھیں نے بڑے بڑے فلاحی کام کیے خاص طور پر مکہ اور مدینہ کے راستے پر ایسے پراجیکٹس بنوائے اور جنھیں اپنی انفرادی حیثیت میں اچھے الفاظ میں اور پیار سے یاد کیا جاتا ہے۔

یہ ہارون الرشید آج بھی زندہ ہیں اور صرف کہانیوں میں نہیں بلکہ طویل عرصے سے عرب ٹی وی چینلوں پر نشر ہونے والے ڈراموں میں بھی، جو یوٹیوب پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

ٹی وی کے ہارون الرشید، ان کے اہلخانہ، درباریوں اور رعایا کو ان ڈراموں میں اپنے جذبات کو پرکھنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے المیوں کا سامنا کرتے ہیں، ان کی وفاداری کا امتحان لیا جاتا ہے۔ وہ تشدد سے بھرپور ایک انتہائی دغاباز ماحول میں جی رہے ہیں۔ لیکن اپنی زندگی کے حوادث سے نمٹنے میں اور اس دوران زندگی میں سمجھوتے کرتے ہوئے وہ آرٹ اور اخلاقی حُسن کو جنم دیتے ہیں۔

ہارون الرشید اور ان کے دور کے لوگوں کی ٹی وی پر دکھائی جانے والی یہ تصویر آج کے عربوں کو اصل میں آئینہ دکھانے کے مترادف ہے۔ قرون وسطیٰ کی کہانیوں اور ٹی وی کے ہارون میں کچھ چیزیں مشترک بھی ہیں۔ بالکل ویسے جیسے شیکسپیئر کے تاریخ پر مبنی ڈراموں کے کردار۔ وہ زندگی کے ان ڈراموں، امکانات اور نظریات کا مرکز ہیں جن سے ہم سب مانوس ہیں۔

ہم تاریخ کے ہارون الرشید سے کہانیوں کے ہارون الرشید تک کیسے پہنچے اور کیا وہ ایک ہی انسان ہیں؟ تواریخ متفق ہیں کہ ہارون الرشید ’ممیز بوائے‘ تھے۔

ان کی والدہ، خیزران غلام کنیز تھیں جن سے ان کے والد خلیفہ المہدی نے، جو ایک بھرپور شخصیت کے مالک تھے، انتہائی غیر روایتی عمل میں انہیں آزاد کر کے شادی کر لی تھی۔

اس رومانوی آغاز کے بعد حالات خرابی کی طرف جانا شروع ہو گئے۔ المہدی کا کم عمری میں انتقال ہو گیا۔ ان کے خیزران سے دو بیٹے تھے جنھوں نے باری باری خلیفہ بننا تھا۔



ہارون الرشید عہد نوعمری میں

ہمیں نہیں معلوم اس وقت ان دونوں کی درست عمر کیا تھی لیکن اندازہ ہے کہ ان عمریں 20 برس کے آس پاس تھیں۔ ان کے نام پیغمبروں (حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون) پر رکھے گئے تھے جو کہ اچھا شگون ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ان دونوں میں ایک دوسرے کے لیے نفرت پیدا ہو گئی تھی۔

موسیٰ کا ایک چھوٹا بیٹا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ ان کے بعد خلافت اس بچے کو ملے اور انھوں نے ہارون کے ساتھ ولی عہد کا سلوک کرنے کی بجائے انھیں ہراساں کرنا شروع کر دیا۔

ہارون کی زندگی خطرے میں تھی۔ اس موقع پر خیزران آگے بڑھیں اور معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ وہ خلیفہ المہدی کی زندگی میں بھی بااختیار رہی تھیں لیکن موسیٰ نے ان کی بھی توہین کی اور انھیں خواتین کے معاملات سے نمٹنے اور ریاست کے معالات سے دور رہنے کے لیے کہا۔

یہ ذاتی لڑائی نہیں تھی بلکہ ان مفادات کا ٹکراؤ تھا جو المہدی کے دنوں میں سر اٹھا چکے تھے۔ خیزران اور بارمکید خاندان نے مل کر موسیٰ کو تخت سے اتار کر ہارون کو خلیفہ بنانے لیے سازش شروع کر دی۔

موسیٰ کا جلد ہی انتقال ہو گیا۔ کچھ حوالے خیزران پر ان کو زہر دینے کا الزام لگاتے ہیں۔ ایک حوالے کے مطابق خیزران نے ایک کنیز کے ذریعے موسیٰ کے منہ پر تکیہ رکھ کر ہلاک کروایا تھا۔ لیکن ان کے مقابلے میں ایک غیردلچسپ روایت کے مطابق موسیٰ کا انتقال پیٹ کے السر کی وجہ سے ہوا تھا۔



موسیٰ کی ہلاکت سے ہارون کی بجائے دراصل بارمکید خاندان کا دور شروع ہوا۔ بارمکید اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے آباؤ اجداد کا تعلق ایران سے تھا۔ یہ خاندان ماضی میں وسطی ایشیا میں بدھ مت کی ایک بڑی عبادت گاہ کا نسل در نسل نگران ضرور رہا تھا، لیکن اب وہ لوگ مقامی رنگ میں ڈھل چکے تھے اور عربی زبان بولنے والے مسلمان تھے، خلافت کے حکومتی ڈھانچے میں اپنی جگہ بنا چکے تھے اور اپنی حیثیت قائم رکھنا چاہتے تھے۔

وہ ماہر ’سٹیٹسمین‘ تھے جو اپنے آقا کی زندگی کا درد اپنے سر لینا جانتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ انتہائی دولت مند اور کھلے دل کے مالک تھے اور وسیع پیمانے پر وفاداریاں خریدنا ان کے لیے مشکل کام نہیں تھا۔

بارمکید خاندان کی ایک عورت نے ہارون کو اپنا دودھ بھی پلایا تھا۔ اس اعتبار سے بارمکید خاندان کے ساتھ ان کا رشتہ بھی تھا اور اس زمانے میں دودھ کا رشتہ خون کے رشتے کی طرح مضبوط ہی سمجھا جاتا تھا۔

اس کے علاوہ بارمکید خاندان کے ایک بزرگ یحیٰ ہارون کے استاد اور سرپرست بھی رہے تھے۔ ہارون ان کو والد کہہ کر مخاطب ہوتے تھے۔ یحیٰ اُن کے وزیر بن گئے اور یحیٰ کے دو بیٹوں نے باقی ذمہ داریاں آپس میں بانٹ لیں۔

ہارون کا رضائی بھائی فضل قابل اعتبار اور لائق تھا جبکہ جعفر ذہین اور دلکش شخصیت کا مالک تھا اور ہارون کا سب سے قریبی دوست بن گیا۔

ان گہرے خاندانی رشتوں اور جذباتی تعلقات کو دیکھتے ہوئے یہ بات عجیب نہیں لگتی کہ ہارون الرشید کے دور کی کہانی فیملی ڈرامہ کے طور پر لکھی گئی ہے۔ اس کہانی کا ہر واقعہ اتنے مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ ان میں ٹھوس شواہد تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔

لیکن یہ تمام کہانیاں خاندانی رشتوں کی کہانیوں کی طرز پر بیان کی گئی ہیں جن میں مرکزیت شخصیات، احساسات، جذبات، حسد، خوف اور محبت کے نفرت میں بدلنے کو حاصل ہے۔



موسیٰ کی ہلاکت کے بارے میں بھیانک روایات اس کی ایک مثال ہے۔ ایک اور مثال یہ سوال ہے کہ ہارون کیوں فضل اور یحیٰ کے خلاف ہو گئے اور انھوں نے جعفر کو کیوں مروایا؟

نفسیات کے نقطہ نظر سے اس کی ایک اچھی وضاحت یہ ہے کہ ہارون کو محسوس ہونے لگا تھا کہ بارمکید خاندان پر انحصار کی وجہ سے وہ اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتے تھے اور گھٹن کا شکار ہونے لگے تھے اور دوسرا یہ کہ انھیں بارمکید خاندان خاص طور پر جعفر کی شہرت کھٹکنے لگی تھی۔

اس کے استعارے کے طور پر ایک کہانی بیان کی جاتی ہے کہ ہارون نے بارمکید خاندان پر حاوی ہونے کی کوشش کی اور جعفر کو اپنے بس میں کرنے کے لیے پہلے خاموشی سے اس کی اپنی بہن عباسہ سے شادی کروا دی اور پھر دونوں کو اکٹھے سونے سے منع کر دیا۔

ظاہر ان دونوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی اور ہارون نے اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے جعفر کو مروا دیا۔ مؤرخین صدیوں سے اس کہانی کو جھوٹ تو کہہ رہے ہیں لیکن وہ خود بھی اس دوران بارمکید خاندان کے زوال کی کوئی سیاسی طور پر قابل قبول وضاحت دینے میں کامیاب نھیں ہوئے۔

تاریخ کے اعتبار سے ایک حقیقی وضاحت ان کے بیٹے امین کے انجام کی کہانی ہے۔

بالکل اسی طرح جیسے موسیٰ نے ہارون کے ساتھ وعدہ خلافی کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو وارث قرار دے دیا تھا بالکل اسی طرح امین نے خلافت اپنے بیٹے کی بجائے اپنے بھائی مامون کو دینے کا سر عام کیا گیا وعدہ توڑ دیا۔

بارمکید خاندان خاندان کے ساتھ اقتدار کی طویل شراکت داری کے دوران خلیفہ ہارون الرشید کے لیے ایک بڑا سیاسی پراجیکٹ اپنے بیٹوں کو اقتدار کی منتقلی کا تھا۔ لیکن یہ پراجیکٹ بُری طرح ناکام ہو گیا۔

یہ انسانی فطرت یا کم سے کم اس کہانی کے کرداروں کی فطرت کے خلاف تھا۔ ایک بار پھر اس باب کو بھی استعارتاً ایک کہانی کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے جس میں سوال یہ ہے کہ اخلاقی طور پر کمزور انسان کو اقتدار منتقل کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے؟

کہا جاتا ہے کہ جس رات زبیدہ اپنے بیٹے امین کے ساتھ حاملہ ہوئیں انھوں نے خواب دیکھا جس میں تین عورتیں اُن کے پاس آ کر بیٹھ جاتی ہیں اور ان کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر بتاتی ہیں کہ ان کا بیٹا کیسا ہو گا۔ ان عورتوں نے بتایا کہ وہ بیکار، دغاباز اور بیوقوف ہو گا۔

جس رات امین کی پیدائش ہوئی وہی تینوں خواتین دوبارہ اُن کے خواب میں آئیں اور اپنی پیشینگوئی دہرائی۔ جس رات انھوں نے امین کا دودھ چھڑوایا یہی خواتین آخری بار ان کے خواب میں آئیں اور کہا کہ اس کے عیب اس کے زوال اور موت کا باعث بنیں گے۔

نجومیوں کے تمام تر خوش کُن زائچوں اور امین کی اعلیٰ تریبت کے باوجود وہ پیشینگوئیاں درست ثابت ہوئیں۔ اس کہانی کا سبق بتایا جاتا ہے کہ انسانی کردار اس کا نصیب ہوتا ہے۔ لیکن اس کا اس سے الٹ مطلب بھی نکالا جا سکتا ہے کہ اپنے نصیب کا علم انسان کا کردار بنا یا بگاڑ سکتا ہے۔

یہ عہد کہ وہ اقتدار اپنے بھائی کو منتقل کریں گے پہلی بار امین سے پانچ برس کی عمر میں لیا گیا تھا، پھر 15 سال کی عمر میں۔ جب 20 برس کی عمر کے کچھ عرصے بعد انھیں اقتدار ملا تو اس عہد کو توڑنے کی منصوبہ بندی کرنے کا انھیں بہت وقت مل چکا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دور میں طاقت حلف کی پابند نہیں تھی۔ قانون کا عمل دخل تو اس سے بھی کم تھا۔ ہر خلیفہ خود طاقت حاصل کرتا اور اسے شکل دیتا تھا۔ تو ہارون نے خود بارمکید کی موجودگی میں اور ان کے بعد طاقت سے کیسے نمٹا؟ ان کے حاصل کرنے کے لیے طاقت تھی کتنی؟

انھوں نے خاموشی اختیار کرتے ہوئے بارمکید خاندان کو ریاست کے معاملات چلانے دیے۔ یعنی انھوں نے اپنے والد سے ورثے میں ملی طاقتور بیوروکریسی کو اپنا کام جاری رکھنے دیا۔

لیکن انھوں نے کچھ نئی چیزیں بھی متعارف کروائیں۔ انھوں نے اس خیال کو فروغ دیا کہ خلافت کو اپنے آپ کو ایک مذہبی منصب کے طور پر ثابت کرنا ہے اور انھوں نے اس خیال کو مقبول کرنے کے لیے کام کیا۔


ہارون الرشید کا مقبرہ

وہ مستقل مسیحی بازنطینی سلطنت کے خلاف جہاد پر مشن روانہ کرتے رہے اور کئی بار خود بھی اُن کی قیادت کی۔ انھوں نے کئی بارحج کیا اور مقدس مقامات پر قیمتی چڑھاوے چڑھائے۔ یہی طریقہ زبیدہ کا بھی تھا جنھوں نے مکہ اور مدینہ میں پانی کی سپلائی کی ایک سکیم کے لیے اور ان دونوں شہروں کے راستے میں پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے خطیر رقم خرچ کی۔


یہ زبیدہ ہی کی مثال تھی جس کے بعد اسلامی ریاستوں میں خیرات کے فلسلفے کی تشہیر کے لیے بڑے بڑے فلاحی ادارے قائم کرنا معمول بن گیا۔ حکمران خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کے طور پر ریاست کے اچھے کاموں میں اس کی شناخت بننے میں زبیدہ اپنے وقت سے بہت آگے تھیں۔ یہ ایک ایسا اہم سیاسی کردار تھا جو آنے والے وقتوں میں بھی خواتین ادا کرتی رہیں۔


ریاست کاری کے نقطہ نظر سے اس میں ہارون کا حصہ علامتی مگر بھرپور تھا۔ ہارون اور زبیدہ نے جو مثال قائم کی وہ صدیوں تک آنے والے مسلمان حکمرانوں کے لیے مثال بن گئی۔ یعنی کسی بھی ریاست کا جواز اس کے کاموں سے پیدا ہوتا ہے۔


اس کا مطلب صرف فلاحی کام اور جہاد نہیں تھا بلکہ عدل و انصاف کی فراہمی کو ریاستی کی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اس شعبے کو علامتی سرپرستی میں لے کر قاضی کے عہدے کا قیام بھی اس میں شامل تھا۔


ہارون کی زندگی میں بحیثیت حکمران عدل، خاندان اور سیاست ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اسی لیے ان کی میراث میں نجی اور سرکاری کو الگ کرنا مشکل ہے۔ اپنے والد کی طرح انھیں موسیقی اور شاعری پسند تھی۔ ان کی ایک سوتیلی بہن اور سوتیلے بھائی دونوں پیشہ وارانہ معیار کے موسیقار اور شاعر تھے۔ ان کی نظمیں آج بھی پڑھی جاتی ہیں۔


آرٹ ایک نجی شوق تھا۔ لیکن یہ ناممکن تھا کہ کوئی صاحب حیثیت اس کے فروغ میں حصہ نہ ڈالے اور اس کی نمائش نہ کرے چاہے صرف اپنے دربار میں اشرافیہ کے لیے ہی ہو۔


ہارون نے فنون لطیفہ کی شاہی سرپرستی کی، یہ روایت جاری رکھتے ہوئے انھیں عوامی سطح پر بھی قبولیت دی۔ یہ ایک اور ایسی روایت تھی جو صدیوں تک قائم رہی۔


تو حتمی تجزیے میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہارون اس مقام کے حقدار ہیں جو انھیں لوگوں کی یادوں(سوشل میموری) میں دیا جاتا ہے۔ انھوں نے تہذیب کے ابدی نظریے کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔


ہارون اور زبیدہ نے آنے والے حکمرانوں کو بتایا کہ کس طرح ریاستیں (گرینڈ جیسچرز) بڑے بڑے کام کر کے عوام کے ساتھ تعلق قائم کر سکتی ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہارون، زبیدہ، ان کے بچوں اور بارمکید خاندان کی زندگی کی کہانیوں نے صدیوں تک لوگوں کو غور و فکر کے لیے مواد فراہم کیا اور انٹرنیٹ اور ٹی وی کی مہربانی سے آج بھی کر رہی ہیں۔

دنیا کی سب سے زیادہ پائیدار ’قوم‘ نخجوان

No comments

نخجوانی باشندے اپنے خطے کو ارضِ نوح کہتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ حضرتِ نوح یہاں دفن ہیں

امکان یہی ہے کہ شاید آپ نے نخجوان کا نام سنا ہی نہ ہو۔ آرمینیا، ایران اور ترکی کے درمیان کوہ قاف سے پرے ایک پہاڑی علاقہ، یہ ایک خود مختار علاقہ ہے، جو اپنے وقت کے سویت یونین کی ایک دور دراز جنوبی خطے آذربائیجان کا ایک علاقہ ہے جہاں بہت ہی کم سیاح جاتے ہیں۔

یہ خود مختار جمہوریہ، آذربائیجان سے جغرافیائی طور پر کٹا ہوا حصہ ہے (نخجوان اور آذربائیجان کے درمیان آرمینیا کی ایک 80 سے 130 کلو میٹر بڑی ایک پٹّی جو دنیا سے سب سے زیادہ بڑا خشکی سے گھرا ہوا بیرونی علاقہ جس کا جزیرہِ بالی کے برابر رقبہ، جو سنہرے گنبد والی مسجد کے ساتھ بحیرہِ اسود اور بحیرہِ کیسپین کے درمیان خشک پہاڑوں پر مشتمل ایک خطہ ہے۔

ترکی، ایران اور آرمینیا میں گھرا ہو یہ علاقہ جو کہ اصل میں آذربائیجان کا علاقہ ہے۔ نخجوان دنیا کا سب سے بڑا خشک زمین میں گھرا ہوا ایک بیرون ملک خطہ ہے

یہاں ایک بہت ہی بلند مزار ہے جہاں حضرتِ نوح مدفون ہیں، ایک پہاڑ کی چوٹی پر ایک قلعہ بنا ہوا ہے جسے کرہِ ارض کے ایک معلوماتی پروگرام 'لونلی پلانیٹ' نے یوریشیا کا 'ماچو پیچو' قرار دیا ہے (ماچو پیچو اصل میں جنوبی امریکہ کی 'انکا' تہذیب کا پہاڑ کی چوٹی پر آباد ایک قدیمی شہر کا نام ہے)، دنیا کا صاف ترین دارالحکومت جہاں سرکاری ملازمین درخت لگاتے ہیں اور ہر ہفتےگلیاں صاف کرتے ہیں۔ یہ وہ پہلا خطہ ہے جس نے سویت یونین کے ٹوٹتے وقت سب سے پہلے آزادی کا اعلان کیا تھا، جو کہ لتھوانیا سے چند ہفتے قبل کیا تھا، تاکہ دو ہفتوں بعد اپنے آپ کو آذربائیجان کا حصہ بنانے لے۔

ظاہر ہے کہ مجھے بھی ابھی حال ہی میں آذربائیجان کے تیل کی بو میں رچے بسے دارالحکومت باکو سے جمہوریہ نخجوان کے دارالحکومت 'نخجوان شہر' کے اتفاقیہ سفر سے پہلے اس کے بارے میں علم نہیں تھا۔

میں نے گذشتہ پندرہ برسوں میں سابق سویت یونین کے کئی علاقوں میں سیر و سیاحت کی ہے، میں نے روسی زبان بھی سیکھی ہے، اور 'ٹرانس نِسٹریا' جیسی کئی چھوٹی چھوٹی قوموں کو دریافت کیا، اس کے علاوہ تاجکستان اور کرغزستان کا انتخابات کی مانیٹرنگ بھی کی ہے۔

لیکن نخجوان جانے کا کبھی موقعہ ہی نہیں بنا تھا۔ کیونکہ یہ سرد جنگ کے دوران سویت یونین کا ایک دور دراز مقام تھا جو کہ اس وقت امریکی فوجی اتحاد نیٹو کے دو ارکان ترکی اور ایران کی سرحد پر وجود تھا اور یہ تزویراتی طور پر منفرد ہونے کی وجہ سے الگ تھلگ اور اتنا خفیہ اور بند علاقہ تھا کہ خود سویت یونین کے شہریوں کو سیکیورٹی کی وجہ سے یہاں آنے کی اجازت نہیں تھی۔ سویت یونین سے علحیدہ ہونے کے تیس برس بعد بھی یہ قوم آج بھی روس اور دنیا بھر کے لیے ایک نامعلوم خطہ ہیں۔



بہت ہی کم غیر ملی سیاح سابق سویت یونین کے اس دور دراز علاقے کا سفر کرتے ہیں

آج اگر کسی کے پاس آذربائیجان کا ویزا ہے تو وہ اس خطے میں جا سکتا ہے، اور کیونکہ یہ قدرے محفوظ خطہ ہے، یہاں کے حکام فوراً ہوشیار ہو جاتے ہیں جیسے ہی وہ کسی غیر ملکی کو وہاں آتے ہوئے دیکھتے ہیں، کیونکہ اس علاقے میں غیر ملکی کم ہی آتے ہیں۔

آذربائیجان ائر لائین کے طیارے سے اترتے ہی اور امیگریشن کے مختلف ڈیسکوں سے ہوتے ہوئے جب میں گزرا تو ایک شخص نے میرے کانوں میں کھسر پسر کرتے ہوئے کہا 'پولیس ۔۔۔۔ یہ تمہارے بارے میں بات کر رہی ہے۔' میں نے اُسے کہا کہ 'تم کیسے جانتے ہو کہ میں کون ہوں؟ 'انھوں نے کہا تھا کہ یہ آنے والا برطانوی شہری چمکتی ہوئی سرخ قمیض پہنے ہوئے ہے۔' اس کا مطلب ہے کہ باکو ائر پورٹ پر سکیورٹی نے میرے آنے کی اطلاع نخجوان آنے سے پہلے ہی دے دی تھی۔ اور بہت ممکن ہے کہ میری بہت ہی بھڑکیلی نیکر نے مجھے عام لوگوں جیسے لگنے نہیں دیا تھا۔

آپ کو نخجوان میں کہیں اتنا سا بھی کوڑا کرکٹ نظر نہیں آئے گا

جب میں اپنے ٹیکسی ڈرائیور مرزا ابراہیموو کی زبردست مرسیڈیز کار میں بیٹھ کر ائر پورٹ سے باہر نکلا تو اُس نے مجھے بتایا کہ 'آپ کو اتنا سے کوڑا کرکٹ نخجوان کے کسی بھی حصے میں نظر نہیں آئے گا۔' نخجوان شہر سے وہ اس خطے کے دوسرے بڑے شہر اردوآباد روانہ ہوگیا۔

وہ درست کہہ رہا تھا: اس بیرونی خطے کے بارے میں میرا پہلا تاثر بہت ہی مسحور کن تھا، یہ شہر حیران کن حد تک صاف ستھرا تھا۔ میں اُس سے جاننا چاہتا تھا کہ سویت یونین کے زمانے کی رہائشی عمارتیں جن کے پاس سے میں گزر رہا تھا، اتنی زیادہ صاف ستھری کیوں ہیں، لیکن میری توجہ دور سے نظر آنے والی ایک آٹھ تکونی انداز میں لکھی اسلامی آیات کی ایک یادگار کی جانب ہو گئی، جس کے بارے میں ابراہیموو نے بتایا کہ اس کا یہاں کے مقامی لوگوں میں بہت احترام ہے۔



نخجوانی باشندے اپنے خطے کو ارضِ نوح کہتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ حضرتِ نوح یہاں دفن ہیں

حضرت نوح کا ایک مقبرہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پانچ مقامات میں سے ایک ہے، لیکن یہ بات آپ نخجوانی باشندوں سے مت کہیے گا کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ان کا وطن 'ارض نوح' ہے۔ بعض مورخین کا کہنا ہے کہ لفظ 'نخجوان' آرمینائی زبان کے دو الفاظ کا ایک مرکب ہے جس کا مطلب 'آبائی نسل کا خطہ' بنتا ہے، جبکہ کئی آذربائیجانی دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ قدیم فارسی زبان کے لفظ 'نخ' (نوح) اور 'چوان' (جگہ) سے بنا ہے۔

مقامی روایت کے مطابق، جب طوفانِ نوح تھما تو حضرتِ نوح کی کشتی ایلاندغ نامی پہاڑ پر آکر ٹھہری تھی اور اس کشتی کے ٹھہرنے کی جگہ پر اس کے نشانات بھی بتائے جاتے ہیں۔ بہت ساری نجوانی باشندے آپ کو بتائیں گے کہ حضرت نوح اور ان کے ماننے والے اس مقام پر کئی دنوں تک ٹھہرے رہے، اور یہاں کے لوگ نوح کی آل اولاد سے ہیں۔

ابراہیموو نے چند دنوں کے بعد مجھے بتایا کہ اس پہاڑ کی چوٹی پر جو ایک کٹا ہوا نشان نظر آرہا ہے یہ وہ جگہ ہے جب یہ پانی میں ڈوبی ہوئی تھی تو نوح کی کشتی اس سے ٹکرائی تھی۔ ایک دن جب میں اردوآباد کے ایک پارک میں بیٹھا ہوا تھا تو ایک زیادہ عمر کے بزرگ میرے پاس آئے، وہ جان چکے تھے کہ میں ایک غیر ملکی ہوں۔ اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے سگریٹ سے اشارہ کرتے ہوئے وہ بولے 'وہ اس پہاڑ کی چوٹی پر وہاں نوح کی کشتی آکر ٹھہری تھی۔'



روایت کے مطابق کوہ الانداغ کی چوٹی سے حضرت نوح کی کشتی پانی کے اترنے کے بعد ٹکرائی تھی جس سے وہاں نشان پڑ گیا

ایک لحاظ سے نخجوان حضرت نوح کا دوسرا نام ہے، لیکن ساڑھے سات ہزار برس پہلے وہکوہ الانداغ پر اترے تھے (بعض لوگوں کے مطابق، اس کے ساتھ والے پہاڑ کوہِ ارارات پر اترے تھے، اس کا انحصار اس بات پر ہے آپ کس سے پوچھ رہے ہیں)، اور ان کی نسلیں ایرانیوں، عثمانیوں اور پھر روسیوں کے ادوار دیکھتی ہوئی آج مسلم اکثریتی آبادی کے طور پر وہاں موجود ہیں۔ چند دہائیاں پہلے سویت یونین کے زمانے کا آرمینیا سے ان کا ایک تنازع ماضی کی 'سرد باقیات' کے طور پر اب بھی موجود ہے۔

سنہ 1988 میں ماسکو کا سویت یونین کی جمہوریاؤں پر سے کنٹرول کمزور ہو رہا تھا، نخجوان کے ہمسائے میں آذربائیجان کے جنوب مغرب میں نگورنو-قراباغ میں آرمینیا کی حمایت یافتہ آرمینائی اقلیت اور آذربائیجان کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ اس سے پہلے کہ سنہ 1994 میں جنگ بندی ہوتی اس میں تقریباً تیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بہرحال اس جنگ کے دوران قریبی آرمینائی آبادی نے سویت یونین اور آذربائیجان اور نخجوان کے درمیان ریل اور سڑک کے تمام رستے بند کردیے تھے۔ دریائے آرس پر ترکی اور ایران کی جانب بچ جانے دو پلوں کی وجہ سے نخجوان کے لوگ مکمل تباہی سے بچ پائے۔

نخجوان کے اس محاصرے سے پیدا ہونے والی غذائی قلت کے نتیجے میں یہاں کے باشندوں میں خود انحصاری کی شدید ضرورت کا احساس رچ بس گیا۔ وہ اپنے ہمساؤں اور دریا پر پلوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے نخجوانی باشندوں نے اپنی غذا خود پیدا کرنی شروع کردی اور اپنی ضروریات کا سامان خود تیار کرنا شروع کردیا اور آذربائیجان میں سنہ 2005 کے تیل کی دریافت سے پیدا ہونے والی ترقی کے بعد سے، باکو نے اس علاقے میں زیادہ سرمایہ کاری کی جس سے اس خطے میں قومی سطح پر خود انحصاری کا جذبہ اور زیادہ گہرا ہوا جو کہ پائیدار ترقی کے مطالعے کے لیے ایک زبردست مثال ہے۔



محاصرے کے دنوں میں نخجوان میں خودانحصاری کی شدید ضرورت کی وجہ سے ایک مضبوط قومی شناحت کا احساس پیدا ہوا

شمالی کوریا کی طرح آج آذربائیجان کا یہ بیرونی خطہ خود مختار اقتصادی ترقی کی بہترین مثالوں میں سے ایک ہے، جہاں ایک بادشاہت یا ایک ملک کسی بین االاقوامی مدد یا تجارت کے بغیر اپنے وسائل پر خود زندہ رہ سکتا ہے۔ لیکن مجھے جلد پتہ چلا کہ نخجوان کی اندرون بین اقتصادی حکمت عملی کے آہستہ غذا کھانے، نامیاتی اور ماحولیاتی-دوست اثرات بہت زیادہ ہیں --- اور یہ سوچ اس خطے کے تفخر اور اس کی شناخت کی وجہ بن گئی ہے۔

نخجوان میں کھانے کا بہت احترام کیا جاتا ہے اور اس کی وجہ بھی ہے۔ 'ہم اس طرح آج کھانا کھا رہے ہیں کیونکہ ہم آج کھا سکتے ہیں۔'

ابراہیموو کے ایک دوست الشاد حسنوو نے یہ بات اس وقت کہی جب ہم ایرانی سرحد کے قریب کھانا کھا رہے تھے۔ اس نے اور ابراہیموو نے کہا کہ خوراک سٹور کرنے کی یادیں اب بھی ان کے ذہنوں میں محفوظ ہیں، لیکن سویت یونین پر اقتصادی انحصاری کی پالیسی سے آزاد ہونے کے بعد نخجوان نے اپنے خطے میں کسی قسم کی کرم کُش ادوایات کے استعمال پر سخت پابندی عائد کردی ہے، صرف نامیاتی خوراک۔ بہت صحت کا خیال رکھنے والے اب کوشش کرتے ہیں کہ اس بھیڑ کا گوشت کھایا جائے جو کسی نخجوان فارم سے آئی ہو، مچھلی وہ ہو جو نخجوانی جھیل سے آئی ہو، جنگلی سویا، سونف، ترخون اور تخم بالنگا ہو تو نخجوان کی پہاڑیوں سے حاصل کیا گیا ہو، نخجوانی باغات کے پھل اور یہاں تک کہ نمک بھی نخجوانی غاروں سے نکالا گیا ہو۔

کچھ ہی دیر بعد جہاں ہم کھانا کھا رہے تھے وہاں بھیڑ کے گوشت اور اس کی نرم ہڈیوں کا ڈھیر جمع چُن دیا گیا۔ یہ سب منقل سلاد، پنیر، بڑے بڑے نان، کباب، سینکڑوں قسم کے مصالحوں سے تازہ تازہ تیار کی ہوئی رہو مچھلی، بیئر اور واڈکا --- ان میں ہر شہ میں کسی نہ کسی بیماری کا علاج موجود تھا۔

جب میں نے نخجوانی نامیاتی مقامی غذا کے کھانے کے پیچھے محرکات جاننے کے بارے میں سوال کیا تو حسنوو نے کہا کہ اصل محرک ہماری اپنی بہتری ہے۔ 'ہماری لوگ صحت مند ہیں، اور ہم ان بیماریوں کا شکار نہیں ہوتے ہیں جو ہمیں پہلے ہوتی تھیں، کیونکہ ہم وہی کچھ کھاتے ہیں جو کہ قدرتی ہوتا ہے۔' جب میں یہ سن رہا تھا تو میں نے ایک بڑے ٹماٹر کو دانتوں سے کاٹا اور میرا ایک میٹھے رس سے بھر گیا۔ بلا شبہ میں نے اس پہلے کبھی بھی اتنا مزیدار ٹماٹر نہیں کھایا تھا۔



اس خطے میں خوارک کی پیداوار کے لیے سائینسی اختراہوں کے استعمال پر سخت پابندی عائد ہے، آہستہ آہستہ کھانے کھانے کی ثقافت نے اسے مقامی غذا کے استعمال کی جنت بنا دیا ہے

نخجوانی باشندوں کی صحت کا راز صرف سائنسی اختراہوں سے پاک خوراک ہی نہیں ہے۔ نخجوان شہر سے چودہ کلو میٹر دور دُزدگ میں نمک کی کانیں ہیں، بہت متاثر کن ماحول ہے اور ان کانوں کے غاروں میں سویت زمانے کا ایک سینیٹوریم بھی موجود ہے۔ ان کانوں کا نقشہ طبی سیاحوں کو یقین دلاتا ہے کہ ان کانوں میں موجود ایک کروڑ تیس لاکھ ٹن خالص نمک سانس کی کئی بیماریوں کا علاج کر سکتا ہے، دمہ سے لے کر تپ دق تک۔

نخجوان کا 30 سیلسیس درجہ حرارت تھوڑی دیر میں ختم ہوگیا جب ابراہیموو اور میں تاریک غار میں داخل ہوئے جہاں نمک کے ذرات کا ایک دھواں محسوس ہوا اور اس ماحول میں سانس کی بیماریوں کے علاج کے فوائد کا خیال ذہن میں آیا یا اسے ہم غار کے ماحول سے علاج کہہ سکتے۔ ہم نے گہری سانس لی۔ ابراہیموو نے بتایا کہ ہمارے پاس یہاں دنیا بھر کے علاقوں سے سیاح آتے ہیں۔ پچھلے برس ایک شخص یہاں یوروگوئے سے آیا تھا جسے شدید دمے کی بیماری تھی۔ وہ یہاں سے ٹھیک ہو کر گیا۔' عین اسی وقت وہاں سکول کے طلبا اور اساتذا کا ایک وفد آیا جنہوں نے وہاں نمک اور خاموشی کے ساتھ رات بسر کی۔

جب ہم کانوں سے باہر نکلے تو میں نے طے کیا کہ میں اس شہر کی بہترین صفائی کی جنونیت کا راز جانوں گا۔ ہر لحاظ سے نخجوان کو پورے کوہ قاف خطے کا نہیں تو کم از کم آدربائیجان کا صاف ترین شہر کہا جا سکتا ہے۔ جس طرف بھی نظر دوڑائیں، موٹرویز مکمل طور پر پختہ، گلیاں بہترین طور پر صاف ستھری، درختوں کے جھاڑ کو نفاست کا ساتھ کاٹ کر خوبصورت بنایا گیا تھا اور زمین میں سے جنگلی بوٹیوں کا مکمل صفایا کردیا گیا تھا۔



نخجوان کو کوہ قاف خطے کا ایک صاف ترین شہر کہا جاتا ہے

ناروے کی ایک تفصیلی ہیلسنکی رپورٹ کے مطابق، اس شہر کی اتنی بہترین حالت کی سب سے بڑی وجہ یہاں کے سرکاری ملازمین ہیں۔ جن میں اساتذا، فوجی، ڈاکٹر، اور دیگر سرکاری ملازمین جو رضاکارانہ طور پر اپنی چھٹی کے دن اپنی گلیوں کو صاف کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ، ان جنگلات کو پھر سے سرسبز کرنے کے لیے جن کے درخت کو کاٹ کر محاصرے کے دنوں میں جلایا گیا تھا، شہریوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ درخت لگائیں اگر وہ کام نہیں کر رہے ہیں یا گلیوں کی صفائی نہیں کر رہے ہیں۔ یہ سویت دنوں کی روایت ہے جسے 'سوبوٹنِک' کہا جاتا ہے۔ جو کے اب ایک متروک تصور ہے جس کے مطابق بغیر اجرت کے رضاکارانہ طور پر کام کیا جاتا تھا۔ یا اسے سویت یونین کے دنوں میں کسی نے بیان کیا تھا کہ ایک کام 'جو رضاکارانہ-لازمی طریقے سے کیا جاتا تھا۔'

میرے وہاں قیام کے دوران ایک ہفتے کی صبح ابراہیموو نے اپنی مرسیڈیز کار کھڑی کی اور قریبی فاصلے پر ہرے ہرے کھیتوں کی جانب اشارہ کیا۔ اس دن سورج کی تمازت میں لوگوں کا ایک گروہ اُس جگہ موجود تھا۔ اُس نے کہا کہ 'یہ لوگ درخت لگا رہے ہیں۔' بظاہر 'سوبوٹنِک' کی روایت دوسروں کی بھلائی کے لیے تھی: ہر ایک درخت کے لگانے سے اس خطے میں صاف ہوا میں اضافہ ہوتا ہے جو انسانی پھیپھڑوں کو بہتر کرتی ہے، بلکہ یہ ساتھ ساتھ اس خطے کے پسندیدہ پھلوں کی فراہوانی کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔



کچھ لوگ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ اس خطے کی بہترین صفائی مقامی حکومت کی سخت گیر پالیسی کا نتیجہ ہے

لیکن، اسی ناروے کی ہیلسنکی رپورٹ جس کا ابھی اوپر ذکر کیا گیا ہے، اس کے مطابق، نخجوان کی وزارتِ اقتصادی ترقی کے ایک اہلکار نے تسلیم کیا کہ اگر کوئی بھی سرکاری ملازم اس 'رضاکارانہ' کام پر اعتراض کرتا ہے تو اسے سرکاری ملازمت سے فورا مستعفی ہونا پڑتا ہے۔ نخجوان کی ریاستی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے تسلیم کیا کہ نخجوان کی حکومت کے موجودہ سربراہ، واصف طالیبوو جن کو کئی لوگ ایک سخت گیر حکمران کہتے ہیں، اس مفت کے کام سے بہت زیادہ آمدنی کما رہے ہیں۔

نخجوان ایک ایسا معمہ ہے جسے میں سمجھ نہیں سکا

اپنے اس دورے کے اختتام پر میں اس پر غور کرنے لگ گیا کہ کیا نخجوان کا ایک صاف ستھرے اور سر سبز شہر کا تاثر سنگاپور جیسا ہے جہاں صفائی اور دیکھ بھال سرکاری سطح پر کم اجرت والی مزدوری اور اس خوف سے ہے کہ حکومت سخت سزا دے گی اگر صفائی نہ رکھی گئی۔ نخجوان ایک ایسا معمہ ہے جس میں سمجھ نہیں پایا: کیا یہ ایک ترقی پسند اور روشن فکر خطہ ہے جہاں لوگ دوسروں کی بھلائی کے لیے رضاکارانہ کام کرتے ہیں، یا یہ ایک محتاط طریقے سے ایک درویشانہ جاگیردارانہ نظام کھڑا کیا گیا ہے یا یہ ان دونوں باتوں کا ایک ملا جلا نظام ہے۔

تاہم ایک بات جو یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے وہ یہ کہ میں اس سے پہلے جہاں جہاں گیا ہوں، اس جیسا ایک الگ تھلگ بیرونی خطہ میں نے کہیں اور نہیں دیکھا: سابق سویت یونین کا ایک خفیہ مضبوط خطہ جہاں نوجوان لوگ آج بھی ریستورانوں میں ایک دوسرے سے کم آواز میں بات کرتے ہیں تاکہ انہیں ارد گرد کا کوئی اور شخص نہ سنے، لیکن یہ 'نامیاتی فارم سے اپنی میز تک' کی اپنی روشن فکری کی باتوں کو کسی غیر ملکی کے سامنے بڑے جوش و خروش کے ساتھ بیان کرتے ہیں، جہاں قومی مجموعی پیداوار میں 300 فیصد اضافے کے باوجود سرکاری ملازمین گزشتہ پندرہ برسوں سے ہر ہفتے کی چھٹی کے دن بغیر کسی اجرت کے کام کرتے ہیں، اور جس کے شہری ایک نبی کے ساتھ اپنا تاریخی رشتہ بہت فخر کے ساتھ جوڑتے ہیں جو کسی دور دراز علاقے سے یہاں اپنی کشتی میں پہنچا تھا اور جہاں آج کی مقامی حکومت اپنے آپ کو اب خود سے محصور کیے ہوئے ہے۔

میں یقین سے نہیں کہہ سکتا ہوں کہ مقامی غذا کو کھانے والے اس خطے کا کیا مستقبل ہے لیکن میں امید کرتا ہوں کہ یہ اپنے دروازے کھلے رکھے گا تاکہ میں ان میں خود مزید دریافت کرسکوں۔


سپینہ تنگی کے ’شہید‘ قاضی فضل قادر: بنوں کے وہ رہنما جن کی قبر کو بھی برطانوی سرکار نے قید میں رکھا

No comments

برطانوی اہلکاروں کو قاضی فضل قادر پر اس قدر غصہ تھا کہ ان کی لاش بھی ورثا کے حوالے نہیں کی گئی


کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ کسی کو مرنے کے بعد سزا سنائی گئی ہو اور اس پر عملدرآمد کے لیے اس کی قبر جیل کے اندر بنا دی گئی ہو؟


جی ہاں، ایسا ہی ایک واقعہ آج سے 90 سال پہلے برطانوی دور حکومت میں اس وقت کے صوبہ سرحد کے ضلع بنوں کے علاقے سپینہ تنگی میں پیش آیا تھا۔


24 اگست 1930 کو برطانوی اہلکاروں نے ایک احتجاجی مظاہرے پر فائرنگ کی تھی جس کے باعث 80 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے اور لوگوں کو بڑی تعداد میں گرفتار بھی کیا گیا تھا۔


واقعہ کیسے پیش آیا؟


برطانوی راج کے دوران 1930 میں تشدد کے تین بڑے واقعے پیش آئے جو چند ماہ کے وقفے سے پیش آئے۔ ان میں ایک پشاور کے تاریخی بازار قصہ خوانی میں پیش آیا تھا جبکہ ضلع مردان کے علاقے ٹکر میں اسی طرح کے پرتشدد واقعے میں متعدد افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بنوں کا مذکورہ بالا واقعہ ہے جس کی تفصیل ذیل درج بیان کریں گے۔

ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ خیبر پختونخوا میں شعبہ تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر اسفندیار درانی نے برطانوی دور میں مزاحمتی تحریکوں پر تحقیق کی ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ سپینہ تنگی واقعہ ان تحریکوں کا ہی ایک حصہ تھی جو برطانوی راج کے خلاف شروع کی گئی تھیں اور شمال مغربی سرحدی صوبے کے مختلف علاقوں سے یہ تحریکیں 1929 کے بعد شروع ہو گئی تھیں۔



قاضی فضل قادر کی قبر کو سنہ 2004 میں آزادی ملی جب جیل کی پرانی عمارت ڈھا کر وہاں پارک بنا دیا گیا

انھوں نے کہا کہ قصہ خوانی کے واقعہ کے بعد خدائی خدمتگار تحریک کی جانب سے مزاحمت کی گئی اور ان کی حمایت میں پشاور شہر میں فرنٹیئر کانگریس کمیٹی، فرنٹیئر خلافت کمیٹی اور نوجوان بھارت سبھا کے ذیلی تنظیم نوجوانان سرحد کے لوگ شامل تھے۔

مذکورہ دن بنوں کے قریب سپینہ تنگی میں بڑی تعداد میں لوگ جلسہ گاہ میں موجود تھے۔

مظاہروں کا یہ سلسلہ صوبے کے مختلف علاقوں میں جاری تھا اور لوگ خدائی خدمتگار تحریک کے بینر تلے احتجاج کرہے تھے۔

سپینہ تنگی سے پہلے کرک میں ایک مظاہرہ کیا گیا اور اس کے بعد سپینہ تنگی میں 24 اگست کو مظاہرے کا اعلان کیا گیا تھا۔

انگریز سرکار کی جانب سے ان مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اس احتجاج کی قیات مقامی رہنما قاضی فضل قادر کر رہے تھے۔

ضلع بنوں سے تعلق رکھنے والے عبدالناصر خان نے بتایا کہ سپینہ تنگی سے پہلے اس علاقے کے دیگر مقامات پر بھی جلسے منعقد کیے گئے تھے اور وہ سب پر امن رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ سپینہ تنگی میں بھی لوگ پر امن تھے اور ان سے اسلحہ مقامی انتظامیہ نے لے لیا تھا۔



مقامی افراد وہ جگہ دکھا رہے ہیں جہاں سپینہ تنگی کے جلسے کے لیے سٹیج تیار کیا گیا تھا

قاضی فضل قادر اس علاقے کی ایک معروف شخصیت تھے اور ان کے پیروکار صرف بنوں ہی نہیں قریبی علاقوں میں بھی تھے۔

مظاہرے کے دوران انگریز کیپٹن ایشرافٹ وہاں پہنچے اور سٹیج پر انھوں نے قاضی فضل قادر سے بات چیت شروع کی، جس سے دونوں میں تلخ کلامی ہوئی اور کیپٹن ایشرافٹ نے ان پر فائر کردیا۔

کہا جاتا ہے کہ ایک نوجوان احمد خان چندن وہاں موجود تھے اور ان کے پاس درانتی تھی، جس سے انھوں نے انگریز کیپٹن پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد سرکار کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی جس سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

اس کے بعد وہاں موجود لوگ اشتعال میں آئے لیکن لوگوں کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا اس لیے سرکار کا کوئی نقصان اس وقت نہیں ہوا تھا۔

قاضی فضل قادر کو زخمی حالت میں گھسیٹ کر لے جایا گیا اور ڈومیل پولیس تھانے میں وہ دم توڑ گئے تھے۔ مگر برطانوی اہلکار اتنے غصے تھے کہ ان کی میت ورثا کے حوالے نہیں کی گئی بلکہ جیل کے اندر انھیں دفن کر دیا گیا تھا۔

اس کے بعد ان پر مقدمہ چلایا گیا اور انھیں قید کی سزا سنائی گئی۔ مرنے کے بعد کسی کو قید کی سزا سنانے کا یہ انوکھا واقعہ تھا۔



قاضی فضل قادر کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر کا عکس

عبدالناصر خان نے بتایا کہ اس سزا پر عمل درآمد کے لیے ان کی قبر جیل کے اندر بنائی گئی۔

اس بارے میں ایک اطلاع یہ ہے کہ یہ قبر جیل میں چکی کے اندر بنائی گئی اور اس کے ارد گرد زنجیریں لگائی گئی تھیں تاکہ یہ ظاہر ہو کہ یہ قیدی ہے۔

مگر برٹش راج کے دوران یہ ایسا انوکھا واقعہ نہیں ہے۔ پروفیسر اسفندیار کے مطابق خیبر میں ایک درخت کو زنجیروں میں قید کرنا اور مہمند میں ایک دروازے کو زنجیروں میں جکڑ کر رکھنے کے واقعات بھی برطانوی دور میں پیش آئے تھے۔

اس واقعہ میں ہلاکتوں کے حوالے سے مختلف بیانات سامنے آئے ہیں جن میں ایک یہ کہا جاتا ہے کہ اس واقعہ میں 70 سے 80 افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 200 کے قریب تھی۔

سینٹرل جیل بنوں شہر کے اندر واقع ہے اور اس کی عمارت بھی بہت قدیم تھی جس کے بعد جمعیت علما اسلام سے تعلق رکھنے والے سابق وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اکرم خان درانی کے دور میں 2004 میں بنوں جیل کی نئی عمارت تعمیر کی گئی تھی۔

پرانی جیل منہدم کرکے وہاں اب قاضی فضل قادر پارک بنا دیا گیا ہے اور ان کی قبر کو ماربل سے پختہ کیا گیا ہے، لیکن قبر کے گرد زنجیریں اب بھی موجود ہیں۔

بشکریہ : بی بی سی اردو

عالمی عجائب. دیوار چین

No comments



سات عجائبات عالم میں سے ایک عظیم دیوار چین انسانی ہاتھوں سے تراشی گئی دنیا کی طویل ترین تعمیر ہے۔ دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دینے والی یہ دیوار گزرتے وقت کی بے مہری کا شکار ہو کر زبوں حال ہوتی جا رہی ہے۔خلا سے دکھائی دی جانے والی 8851 کلومیٹر طویل اس عظیم دیوار کا 30 فیصد حصہ وقت کے ساتھ ساتھ غائب ہوچکا ہے۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دیوار کا صرف 8 فیصد حصہ پہلے کی طرح بہترین حالت میں ہے۔مقامی انتظامیہ کے مطابق اس دیوار کی تباہی میں سب سے بڑا ہاتھ ان

دیہاتیوں کا ہے جو اس دیوار کے دامن میں آباد ہیں۔یہ مقامی لوگ دیوار میں لگی مضبوط اور موٹی اینٹیں نکال کر اپنے گھر تعمیر کرتے ہیں۔ دیوار کی چوری شدہ اینٹیں فروخت بھی کی جاتی ہیں۔ اینٹوں کی مسلسل چوری کے باعث دیوار کو نقصان پہنچ رہا ہے اور وہ کئی جگہ سے خستہ حال ہوتی جارہی ہے۔تاہم حکومتی کوششوں اور آگاہی کے فروغ کے بعد اب انہی مقامی باشندوں نے اپنے ثقافتی ورثے کی بحالی کا بیڑہ اٹھا لیا ہے۔سورج نکلتے ہی مقامی باشندے اینٹیں، لکڑیاں اور تعمیراتی سامان خچروں کی مدد سے اونچی پہاڑیوں پر پہنچانا شروع کردیتے ہیں اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار حصے کو تعمیر کرتے ہیں۔کیا آپ جانتے ہیں دیوار چین کو تعمیر کرنے میں 17 سو سال کا طویل عرصہ لگا ہے؟ بعض کتابوں میں یہ 2 ہزار سال بھی بتایا گیا ہے۔دراصل اس دیوار کی تعمیر منگول حملہ آوروں سے بچنے کے لیے کی گئی جس کا آغاز 206 قبل مسیح میں کیا گیا۔ اس کے بعد بے شمار بادشاہوں نے حکومت کی اور چلے گئے لیکن اس دیوار کی تعمیر کا کام جاری رہا۔اس دوران دنیا وقت کو ایک نئے پیمانے (حضرت عیسیٰ کی آمد کا بعد کا وقت۔ بعد از مسیح) سے ناپنے لگی،سنہ 1368 شروع ہوا اور چین میں منگ خانوادے کی حکومت کا آغاز ہوا۔لیکن دیوار چین کی تعمیر ابھی بھی جاری تھی۔آخر اس کے لگ بھگ ڈھائی سو سال بعد اسی خانوادے کے ایک بادشاہ کے دور میں دیوار کی تعمیر مکمل ہوئی۔ یہ 1644 کا سال تھا۔موجودہ دیوار کا 90 فیصد حصہ اسی خاندان کے دور میں تعمیر ہوا۔دیوار چین کی تعمیر کے دوران اینٹوں کو جوڑنے کے لیے چاول کا آٹا استعمال کیا گیا تھا۔اس عظیم دیوار کی تعمیر کے دوران 10 لاکھ مزدور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، لیکن اس دیوار نے چینیوں کو بیرونی حملہ آوروں سے محفوظ کردیا۔اب ہر سال اس دیوار پر ایک میراتھون منعقد ہوتی ہے جس میں ڈھائی ہزار افراد حصہ لیتے ہیں۔دیوار، چین کے 15 صوبوں میں پھیلی ہوئی ہے

پاکستان کے شہر پشاور کا تاریخی ورثہ گزری صدی کی کہانی کیسے سناتا ہے؟ آخر پاکستان کی تاریخ کیا ہے؟؟؟

No comments



اسلام آباد سے صرف دو گھنٹے کی مسافت طے کرنے پر آپ پشاور میں ایسے مقامات کی سیر کر سکتے ہیں جو آپ کو ٹائم مشین کے ذریعے ایک سو سال پیچھے یعنی ماضی میں لے جا سکتے ہیں۔

قلعہ بالا حصار، اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی شاندار عمارت، اندرون شہر لکڑی کی خوبصورت کندہ کاری سے مزین سیٹھی ہاؤس کی عمارت، قصہ خوانی کے بالا خانے، بالی ووڈ کے لیجنڈ اداکار دلیپ کمار اور راج کپور کی خستہ حال رہائشیں اور تاریخی بازاروں میں خریداری سے آپ صرف ایک دن میں خوب مزے لے سکتے ہیں۔

اگر ٹریفک کی تکلیف یا ’خجل خواری‘ کو ایک طرف رکھ دیں تو پشاور کا ایک دن کا دورہ آپ انتہائی یادگار بنا سکتے ہیں جس میں آپ تاریخی مقامات کے علاوہ پشاور نمک منڈی کے مٹن تکے اور کڑاہی کھا سکتے ہیں۔




باب خیبر

اگر آپ اپنے دورے کا آغاز پشاور سے کوئی پانچ دس منٹ کی مسافت پر واقع باب خیبر سے کریں تو مناسب ہوگا۔ اس کی ایک اہم وجہ تو یہ ہے کہ شام کو آپ ایک ایسے بازار جا سکتے ہیں جہاں کھانا تو لاجواب ہے ہی وہاں دہکتے کوئلوں پر پگھلتے گوشت اور چربی کی بھینی بھینی خوشبو آپ کو کہیں جانے نہیں دیتی۔

پہلے ذکر کرتے ہیں باب خیبر کا جو پاکستان اور باہر ممالک میں خیبر پختونخوا کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔

ماضی میں درہ خیبر کے نام سے مشہور ضلع خیبر میں جمرود کے مقام پر واقع باب خیبر ایک ایسی علامت ہے جسے دیکھ کر آپ کو ایسا لگے گا کہ جیسے آپ نے اس شاہراہ کو مسخر کر دیا ہے جو پاکستان کو افغانستان سے ملاتی ہے اور جس راستے سے ماضی میں حملہ آور اور حکمران گزر کر آتے رہے۔


یہ باب خیبر 1963 میں تعمیر کیا گیا تھا اور اس پر ان تمام حملہ آوروں اور حکمرانوں کے نام تحریر کیے گئے ہیں جو افغانستان سے آئے تھے۔ جمرود سے کوئی 33 کلومیٹر دور طور خم کا مقام ہے جہاں پاک افغان سرحد واقع ہے۔

اس مقام پر پہنچ کر جب آپ نے باب خیبر دیکھ لیا تو سمجھیں آپ نے ضلع خیبر کا بڑا حصہ دیکھ لیا۔ یہاں موجود خاصہ دار فورس اور لیویز اہلکار با اخلاق اور سیاحوں کی مدد کو ہر دم تیار رہتے ہیں۔



اسلامیہ کالج یونیورسٹی

جمرود سے واپس پشاور آئیں تو چند کلومیٹر کے فاصلے پر آپ کو بائیں ہاتھ پر خوبصورت عمارت نظر آئے گی یہ شاندار تعلیمی درس گاہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی عالیشان عمارت ہے۔

جمرود روڈ سے عمارت کا نظارہ ایسا جیسے آپ ایک ہزار روپے کا رنگین نوٹ دیکھ رہے ہوں۔ جی ہاں ایک ہزار روپے کا نوٹ نیلا ہے جس پر اسلامیہ کالج کی عمارت کی تصویر ہے لیکن اسلامیہ کالج کی عمارت سرخ اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہے اور عمارت کے سامنے وسیع و عریض سر سبز میدان اور اونچے درخت ہیں۔

اسلامیہ کالج کی عمارت 1913 میں پشاور میں تعمیر کی گئی اور اس کی بنیاد خان عبدالقیوم اور سر جارج روز کیپل نے رکھی تھی۔

اس درسگاہ کی تعمیر علی گڑھ سے متاثر ہو کر رکھی گئی۔

ہوا کچھ یوں کہ جب خان عبدالقیوم علی گڑھ یونیورسٹی کے دورے پر جب گئے تو وہاں انھیں پشتون طلبا نے رہائش کے مسائل سے آگاہ کیا جس پر انھوں نے پشاور میں علی گڑھ یونیورسٹی کی طرز پر ایک تعلیمی ادارہ بنانے کا فیصلہ کیا۔

اس ادارے کی تعمیر کے لیے مختلف لوگوں نے عطیات دیے۔ ان میں بی بی گل نامی ایک بیوہ نے اپنے سارے زیورات عطیہ کر دیے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ اس درسگاہ میں بچیوں کو بھی تعلیم فراہم کی جائے۔ ان کی خواہش اس وقت تو پوری نہیں ہو سکی لیکن لگ بھگ پچانوے سال بعد یعنی 2007 میں جب کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا تو اس وقت اس میں لڑکیوں کو تعلیم فراہم کرنے کا سلسلہ شروع ہو سکا۔

اسلامیہ کالج کے بڑے ہال کلاس رومز بھی باقاعدہ ایک طریقے سے تعمیر کیے گئے ہیں اس عمارت میں چھتوں کی اونچائی اتنی ہے کہ یہ گرمیوں میں سرد اور سردیوں میں گرم رہتے ہیں۔

برطانوی دور میں تعمیر کی گئی تاریخی اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی عمارت تین سو ایکڑ رقبے پر محیط ہے۔ یہ عمارت مشرقی اور مغربی تعمیراتی آرٹ کا ایک شاندار نمونہ ہے۔ اس عمارت کی تعمیر میں گنبد محرابیں اور طاق مقامی طرز تعمیر کی نشانیاں ہیں۔ اس عمارت میں چلتے پھرتے آپ کو ایسا ہی محسوس ہوگا جیسے تحریک پاکستان کے اہم اور سرگرم طالبعلم آج بھی علم کی پیاس بجھانے یہاں موجود ہیں۔


سفید ماربل مسجد

اسلامیہ کالج کی عمارت سے منسلک واقع سفید سنگر مرمر کی مسجد کو انیسویں صدی کے آغاز میں جدود علوم کا مرکز سمجھاجاتا تھا۔ پشاور میں قائم مسجد مہابت خان کے بعد مغل دور میں تعمیر ہونے والی یہ سفید مسجد سیاحوں کو اپنی جانب کھینچ لاتی ہے۔ یہ مسجد مغل اور برطانوی دور کے طرز تعمیر کا شاندار نمونہ ہے۔

آپ اسلامیہ کالج کے ساتھ پشاور یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی ادارے بھی واقع ہیں۔ اس یونیورسٹی سڑک سے سیدھا اندر شہر میں چوک یادگار پہنچ جائیے۔
قلعہ بالا حصار

لیکن ٹھہریں۔۔۔ اندرون شہر جانے سے قبل آپ کو راستے میں دائیں جانب ایک بڑا قلعہ نظر آئے گا یہ ہے قلعہ بالا حصار اور اس کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی پشاور شہر کی اپنی تاریخ ہے۔

مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے اپنی خود نوشت میں اس کا ذکر کیا ہے جبکہ افغانستان کے درانی خاندان کے دور میں یہ قلعہ بالا حصار گرمیوں میں ان کا مرکز ہوتا تھا۔ رنجیت سنگھ کے دور میں سکھوں نے اس قلعے کے طور پر استعمال کیا۔

قلعہ بالا حصار پندرہ ایکڑ سے زیادہ رقبے پر پھیلا ہوا ہے لیکن اس کی بھاری بھر کم دوہری دیواریں ہیں اور اس کا اندرونی رقبہ دس ایکڑ تک بتایا جاتا ہے جبکہ ان کی اونچائی پچانوے میٹر ہے۔

ایک افسوس ناک بات یہ ہے کہ آپ اس قلعے میں کُھلے عام نہیں جا سکتے آج کل یہ فرنٹیئر کور کی تحویل میں ہے اور اندر جانے کے لیے آپ کو باقاعدہ اجازت نامہ درکار ہے۔ پشاور ہائی کورٹ میں ایک درخواست جمع کرائی گئی تھی کہ یہ قلعہ عام لوگوں کے لیے کھولا جائے۔ انتظار کی گھڑیاں ابھی ختم نہیں ہوئیں۔

یہ تجویز ابھی بھی زیر غور ہے۔

اندرون شہر پہنچنے میں آپ کو وقت لگے گا، ٹریفک زیادہ ہو سکتی ہے لیکن فکر نہ کریں راستہ مل ہی جاتا ہے۔ یہ اندرون پشاور شہر ہے اور کاروباری مرکز بھی ہے۔ چوک یادگار سے پیدل گھنٹہ گھر اور فوڈ سٹریٹ سے ہوتے ہوئے سیدھا محلہ سیٹھیاں پہنچیں۔



سیٹھی ہاؤس

اندرون پشاور شہر سیٹھی خاندان کا ایک مکان محکمہ آثار قدیمہ نے اپنی تحویل میں لے کر اس مکان کو سیاحوں کے لیے کھول دیا ہے۔

اس محلے میں سیٹھی خاندان کے سات مکان ہیں جو تہہ خانوں کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس مکان میں شاندار لکڑی کے کام کے علاوہ رنگیں شیشوں سے مزین طاق اور کھڑکیاں ہیں۔

صحن میں فوارہ لگا ہوا ہے جبکہ کمروں میں لکڑی کا کام بہت خوب لگتا ہے۔



سیٹھی خاندان اس علاقے میں ایک امیر ترین خاندان تھا اور ان کی تجارت روس تک پھیلی ہوئی تھی۔

اس مکان کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تہہ خانوں میں روسی کرنسی کی بوریاں بھری پڑی تھیں اور جب روس نے اپنی کرنسی منسوخ کر دی گئی تھی اور یہ بوریوں میں بھرے نوٹ ضائع ہو گئے تھے۔

محکمہ آثار قدیمہ نے سیٹھی ہاؤس کو اپنی تحویل میں لے کر اسے ایک عجائب گھر کا درجہ دیا ہے۔ اس مکان کے دورے کے دوران ہر دروازے اور ہر کھڑکی سے گزرتے ہوئے آپ کے سامنے ماضی کے جھروکے کھلتے جائیں گے ۔

سیٹھی ہاؤس فن تعمیر کا ایک شاندار نمونہ ہے۔ سیٹھی ہاؤس انیسویں صدی کے آخر میں کوئی پینتیس سالوں میں مکمل کیا گیا تھا۔



قصہ خوانی بازار

پاکستان بننے سے پہلے ہندوستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کے لیے پشاور ایک بڑا مرکز رہا ہے۔ یہاں آکر قافلے رکتے، چند روز قیام کرتے اور پھر اپنی منزل کی جانب روانہ ہو جاتے۔

ان قافلوں کے ڈیرے تو مختلف مقامات پر ہوتے تھے لیکن سب کے بیٹھنے کا مرکز قصہ ِخوانی بازار ہوتا جہاں بالا خانے اور مسافر خانے قائم تھے۔ یہ قصہ گو تاجروں اور دیگر علاقوں سے آنے والے افراد کو مختلف قصے سناتے اور ان کے دل کو موہ لیتے۔

آج بھی اس بازار میں بالا خانے موجود ہیں جہاں آپ بہترین قہوہ پی سکتے ہیں۔ البتہ کوئی قصہ آپ کو خود ہی چھیڑنا پڑے گا۔ قصہ خوانی بازار کے قہوے کا تیکھا اور ہلکا میٹھا ذائقہ شائد پاکستان کے کسی اور شہر میں آپ کو نہیں ملے گا۔ روایتی چینکوں اور پیالیوں میں آج بھی بڑی چینک آپ کو بیس سے تیس روپے میں مل جاتی ہے۔

قصہ خوانی بازار میں قراقلی ٹوپی کے علاوہ اب جدید دور کی روائتی ٹوپیاں بھی خریدی جاسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ پیتل کے ظروف اور دیگر برتن آج بھی یہاں فروخت کیے جاتے ہیں اور ان کی قلعی بھی کی جاتی ہے۔
 تصویر کے کاپی رائٹHIDAYAT KHANImage captionکپور ہاؤس

پشاور کا بالی ووڈ

قصہ خوانی بازار کے ساتھ ہی بالی ووڈ کے عظیم اداکار دلیپ کمار اور راج کپور کے مکانات بھی واقع ہیں۔

یہ مکانات اب خستہ حال ہیں۔

صوبائی حکومتوں نے کوشش کی کہ ان مکانات کو تحویل میں لے کر یہ سیاحوں کے لیے کھولے جا سکیں۔ حکومت اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ دلیپ کمار ایک دو مرتبہ پشاور کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔

ان کا بچپن یہیں ڈھکی نعلبندی میں گزرا ہے اور وہ آج بھی اپنے علاقے کو یاد کرتے ہیں۔ پشاور میں ہر سال دلیپ کمار کی سالگرہ منائی جاتی ہے اور اس موقع پر دلیپ کمار یا ان کی اہلیہ سائرہ بانو سے ٹیلیفونک گفتگو بھی ہوتی ہے۔

راج کپور کے والد پرتھوی راج کا مکان بھی یہیں واقع ہے۔ راج کپور کے بیٹے پوتے پوتیاں آج بھی ان علاقوں کو یاد کرتے ہیں۔


یہ مکان اندرون پشاور کی تنگ گلیوں میں واقع ہیں۔ اس لیے یہاں آپ کو پیدل ہی چلنا پڑے گا۔ بالی ووڈ کے ایک اور اداکار شاہ رخ خان کے والد کا مکان بھی یہیں قصہ خوانی بازار کے قریب واقع ہے جہاں اب ان کے رشتہ دار رہتے ہیں۔ بالی ووڈ فلم انڈسٹری میں ستر سے زیادہ ایسے اداکار، گلوکار، صدا کار اور دیگر فنکار ہیں جن کا تعلق پشاور اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے رہا ہے۔



نمک منڈی

دن بھر گھومنے پھرنے کے بعد بھوک تو خوب لگتی ہے۔ تو اب ذکر کرتے ہیں اس بازار کا جہاں بڑے اہتمام اور خشوع و خضوع کے ساتھ پیٹ پوجا کے لیے رخ کیا جاتا ہے۔


اس وقت تک شام ہونے کو ہوگی اور آپ کو بھوک بھی ستا رہی ہو گی۔ اس لیے نمک منڈی ایک ایسی جگہ ہے جہاں دور دراز سے لوگ پوجا جی ہاں پیٹ پوجا کے لیے آتے ہیں۔ نمک منڈی سے نمک کا کوئی زیادہ تعلق نہیں ہے ہاں اتنا ضرور ہے کہ یہاں کھانے صرف نمک میں تیار ہوتے ہیں باقی مصالحوں کا استعمال یہاں کھانوں میں نہیں ہوتا۔


نمک منڈی میں چرسی کے مٹن تکے اور کڑاہی اگر آپ نے نہیں کھائی توآپ پشاور آئے ہی نہیں، اس لیے شام کے وقت جب سائے ڈھل جائیں تو دنبے کے گوشت کے تکوں اور کڑاہی کا آرڈر ضرور دیجیے۔


گوشت آپ اپنی پسند کا بتائیں اور اگر آپ دو لوگ ہیں تو دو کلو خشک تکہ آپ آسانی سے کھا سکتے ہیں۔ اس کے بعد قہوہ پینے سے سب کچھ ہضم ہو جائے گا اور آپ خوشی خوشی واپس اسلام آباد روانہ ہو سکتے ہیں۔

courtesy : BBC URDU
Don't Miss
© all rights reserved
made with by Sajid Sarwar Sajid